کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 126 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 126

(235 کلام ظفر 236 کلام ظفر جلسہ سالانہ قادیان کا روح پرور نظارہ اب تو فرصت دے مجھے اپنی پرستش سے ذرا اے مرے نفس کہ کچھ اور بھی کرنا ہے مجھے کام کچھ کر کے دکھاتے تو ظفر بات بھی تھی کب تلک کہتے چلے جاؤ گے کرنا ہے مجھے (زمانہ طالب علمی۔رسالہ جامعہ احمد یہ سالانہ نمبر دسمبر 1930 ءصفحہ 58 نیز روز نامہ افضل 13 مارچ 1995 ، صفحہ 2) ترقی فضل حق سے دم بہ دم ہے زمین قادیاں اب محترم ہے خدا کا فضل ہے چھوٹی سی بستی ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے چلی آتی ہے دنیا ہر طرف سے اُسی جانب اٹھا اب ہر قدم ہے وہی بہتی جو گمنامی میں گم تھی اسی کا سب سے اونچا اب علم ہے ہے بے شک فرض حج کعبۃ اللہ زیارت قادیاں کی بھی اہم ہے عرب نازاں ہے گر ارض حرم پر تو ارض قادیاں فخر عجم ہے بفضل ایزدی جلسہ ہمارا برائے تشنگاں ابر کرم ہے فنا ہو جاؤ گے اے دشمنو! تم عناد احمدیت اک سم ہے نشانوں پر نشاں دیکھے ہیں سب نے اگر اب بھی نہ مانو تو ستم ہے خدا کا قہر ہو گا تم پہ نازل ازل سے یہ نوشتوں میں رقم ہے جہاں باطل ہو چکنا چور گر کر ہمارا ان چٹانوں پر قدم ہے مسیحا! پھر ترے مہمان آئے معزز محترم انسان آئے تقدس کا جہاں قائل ہے جن کی یہاں وہ صاحب عرفان آئے