کلامِ ظفرؔ — Page 117
(217 کلام ظفر 218 کلام ظفر کراچی ہم تو سنتے تھے کراچی ہے مسلمانوں کا شہر اور جب دیکھا تو پایا نیم عریانوں کا شہر گندی تصویروں سے ہے ہر بام و در آراستہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے کہ بت خانوں کا شہر بی۔اے، بیٹی بنتے بنتے بیٹیاں ٹیڈی بنیں ہائے غافل ڈیڈیوں کا اور نادانوں کا شہر (1964) غزل یکم مارچ 2000ء کو ایم ٹی اے کے ایک پروگرام میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی موجودگی میں ایک بچے نے خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔سوچتا ہوں کہ تجھے یاد کروں یا نہ کروں دل ترے پیار سے آباد کروں یا نہ کروں تو مری جان بھی ہے دشمن ایمان بھی ہے جان و ایمان کو برباد کروں یا نہ کروں عشق کے دام میں آزار بھی آرام بھی ہے دل کو اس دام سے آزاد کروں یا نہ کروں تجھ کو تیری ہی قسم جانِ جہاں تو ہی بتا تیری مہجوری میں فریاد کروں یا نہ کروں