کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 112 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 112

207 کلا ظفر 208 کلام ظفر ترے مکروں سے اے باطل نہیں نقصانِ حق ہر گز مگر ہاں تیری رسوائی کے ساماں ہوتے جاتے ہیں بھلا اس بوستاں پر کیا خزاں آئے گی اے ناداں کہ جس کے پھول جھڑتے ہی گلستاں ہوتے جاتے ہیں کسی یعقوب کی آہوں کا شاید یہ نتیجہ ہے کہ جھونکے ہوئے یوسف کے نمایاں ہوتے جاتے ہیں مت مومنو وقت ظفر نزدیک آ پہنچا سپاہی لشکر شیطاں کے بے جاں ہوتے جاتے ہیں ڈرو روزنامه الفضل قادیان 10 اپریل 1947 ، صفحہ 2) سیاست احرار پھر لاشته احرار میں حرکت ہوئی پیدا و, پھر عالم بالا سے ہوئے ان کو اشارے اے قوم مسلمان خبر دار خبردار پھر خرمن وحدت میں پڑے آ کے شرارے احرار ہیں وہ بحر سیاست کے شناور گرداب میں ہو قوم تو ڈھونڈیں یہ کنارے عشاق محمد سے رکھتے ہیں عداوت اعدائے محمد ہی مگر ان کو ہیں پیارے توہین محمدم کا لگاتے ہیں یہ یہ الزام اف! ہم پہ جو جیتے ہیں محمد کے سہارے