کلامِ ظفرؔ — Page 105
193 اس بے وفائی کا تھا مجھے بھی گلہ ضرور جو لکھ گئی تھی آنکھوں سے تصویر یار پر پر اب تو حال یہ ہے کہ باغ جناں میں بھی رشک آرہا ہے آپ سے اُلفت شعار پر آقا تیری دعاؤں نے آکر دیئے ہیں کھول خوشیوں کے لاکھ باب غموں کی شکار پر چاروں طرف سے رحمتِ حق کا ہوا نزول اس بے کس و نحیف و غریب الدیار پر ہاں ہاں وہ مجھ پہ راضی ہے اور مہربان ہے جس کے لئے کٹی میں حوادث کی دھار پر شکوہ کسی جفا کا بھی دل میں نہیں ہے اب آپ آیا کیجئے گا ہمارے مزار پر کلام ظفر (روز نامہ الفضل 12 ستمبر 2013ء صفحہ 2) 194 کلام ظفر حَبَّذا ا حافظ روشن علی ! حَبَّذا اے حافظ روشن علی پیکر خاکی سراپا روشنی عالم و فاضل بہت دیکھے مگر آپ سا فاضل نہیں دیکھا کبھی حافظ قرآن و استاذ بیاں ماہر علم حدیث و فلسفی قاری و صوفی مناظر مجتهد پھر فقیہہ بے مثال و منطقی حسن ترتیل و تلاوت آپ کی میرے کانوں میں ہے اب تک گونجیتی