کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 85 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 85

153 کلا ظفر 154 کلام ظفر طلباء جامعہ کے نام یہ نظم اس استقبالیہ تقریب میں پڑھی گئی جو 5 جنوری 1955ء کو جامعہ احمد یہ احمد نگر کی طرف سے انڈونیشیا اور ٹرینیڈاڈ سے آئے ہوئے مہمانوں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی جو جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل تھے۔اے طالبان علم دبستان جامعه دیکھو انہیں جو آج ہیں مہمان جامعہ پروردہ ہیں یہ لوگ اسی درسگاہ کے ان گوہروں کی کان بھی ہے کانِ جامعہ علم حدیث و فقہ و معانی تمہیں نصیب حاصل تمہیں معارف قرآن جامعہ لیکن وہ علم موت ہے جس میں عمل نہ ہو نکتہ رہے یہ یاد عزیزان جامعہ ہاں اتباع سنت نبوی کے فیض دنیا کے ہوں امام جوانان جامعہ روحانیت کے نان کی دنیا ہے گرسنہ تقسیم کر دو کر دو نان یه از خوان جامعه خوشبوئے معرفت سے معطر جہان ہو بن جاؤ تم نسیم گلستان جامعه ان کی ہی کوششوں سے جہاں میں ہے انقلاب قائم انہی کے کام سے ہے شانِ جامعہ ظاہر ہیں قوم قوم میں آثارِ زندگی جاری ہے ملک ملک میں فیضان جامعہ زندہ کیا ہے ان کو اسی درسگاہ نے اللہ کرے کہ تم بھی بنو جانِ جامعہ تعلیم کا مکان ظفر تنگ ہے تو کیا بیر عمل وسیع ہے میدان جامعہ (روز نامه الفضل 8 جنوری 1955 ء صفحہ 2) اس وقت جامعہ احمدیہ احمد نگر میں ایک چھوٹے سے مکان میں تھا۔