کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 86 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 86

155 سرچشمه مسرات انسان مبتلا ہے غم جانکاہ میں چاروں طرف ہیں کانٹے ہی کانٹے نگاہ میں ہے دولتِ تسکین دل کہیں ملتی نہیں کلام ظفر 156 جنت کہ ایک منزل رضوانِ یار ہے سامانِ ذوقِ دل ہے اُسی بارگاہ میں تجو اسکی ذات پاک کے جو کچھ ہے کیا ہے حقانیت ہے صرف اسی بادشاہ میں فرزند و مال و زن ہیں سبھی سومنات دل بھاگ ان سے دُور دُور خدا کی پناہ میں مسجد میں مدرسے میں کسی خانقاہ میں سرچشمه مسرتِ انساں وہی تو ہے دیکھا ہے خوب غور سے تسکین درد دل ہوتی اسی سے آہ مبدل ہے واہ میں نے تخت و تاج میں ہے نہ دلق و گلاہ میں حاصل نہیں سکون وہ شاہوں کو تخت پر مسجود ساکنان فلک تھا جو کل تلک یوسف کو جو سکون ملا قعر چاہ میں کھاتا ہے آج ٹھوکریں کیوں راہ راہ میں درویش جو کہ زیپ مصلی دُعا میں ہے نور ازل کی طائر دل کو تلاش ہے اُس کا ہے آشیانہ اُسی جلوہ گاہ میں بیٹھا ہے اپنے تخت پہ حفظ سپاہ میں کلام ظفر