کلامِ ظفرؔ — Page 75
133 بھر دے گل مراد سے اب ان کی جھولیاں دامن تیرے حضور پھیلانے آگئے ان کے گھروں کا آپ محافظ ہو اے خدا تیرے سپرد کر کے یہ کاشانے آگئے ہیں کتنے خوش نصیب وہ عشاق اے ظفر کلا ظفر اپنے دلوں کی آگ جو بھڑکانے آگئے (روز نامه الفضل جلسہ سالانہ نمبر 26 دسمبر 1977 ء صفحہ 4) نوٹ: یہ نظم جلسہ سالانہ قادیان 2010ء میں تیسرے دن کے اجلاس میں پڑھی گئی۔(بحوالہ ہفت روزہ بدر قادیان 6 تا 13 جنوری 2011ءصفحہ 18) 134 کلام ظفر ربوہ ہے وہ چٹان جو ٹکر ایا مٹ گیا معاندین احمدیت کی طرف سے جب بھی احمدیت پر تحریر و تقریر کے ذریعہ کوئی اعتراض کیا گیا سلسلہ احمدیہ کے جید علماء کی طرف سے ہمیشہ ان کا مدلل و مسکت جواب دیا گیا۔بعض دفعہ معاند شعراء نے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنے بغض و نفرت کا اظہار نظموں کی صورت میں کیا تو جماعت کے شعراء نے نظم میں ہی اس کا جواب دیا۔ذیل میں ہم ایسی ہی ایک نظم پیش کر رہے ہیں جو ایک معاند احمدیت آغا شورش کا شمیری کی ایک نظم (مطبوعہ چٹان 23 جولائی 1973ء) کے جواب میں لکھی گئی جس میں اس نے کہا تھا کہ وو ربوہ مٹے گا قہر الہی سے بالضرور تاخیر ہو گئی ہے خدا کے عذاب میں محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کی یہ نظم اس کی باطل توقعات کے جواب میں ہے۔(مدیر) آغا ہے آج جانیئے کیوں پیچ و تاب میں دل اس کا بے قرار ہے جاں اضطراب میں کوئی یہ اس سے پوچھے کہ اے بے ادب بتا گستاخیاں یہ کیسی ہیں ربوہ کے باب میں آغا شورش کا شمیری نے یہ ظلم 1973ء میں سیلاب آنے کے بعد لکھی