کلامِ ظفرؔ — Page 27
37 کی صورت میں اس کے پہلے حرف پہ آ کر ختم کر دیں۔کلا ظفر میں ایک اور مثال کے ذریعے اس کی توضیح کرتا ہوں مثلاً آپ بحر منسرح کا وزن معلوم کرنا چاہتے ہیں تو آپ اسے یوں پڑھئے۔مــن خـف مــضـــا مـق مــج شـــاك ســـرجـد قــرى مستفعلن مفعولات مستفعلن اس طرح آپ ہر بحر کا وزن آسانی کے ساتھ معلوم کر سکتے ہیں، استاذی المحترم نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے اور یہ ایک ایسی علمی بات ہے جس کے موجد اور خاتم آپ ہی ہیں آپ سے پہلے کسی شخص نے اسے اس رنگ میں بیان نہیں کیا۔اللھم اغفرلہ وارحمہ۔ان دو علمی باتوں کے بعد میں آپ کے سامنے آپ کی سیرت کی چند جھلکیاں پیش کرنا چاہتا ہوں جن سے قارئین کرام کو معلوم ہو گا کہ آپ اپنے کردار و عمل کے لحاظ سے بھی ایک نادرہ روزگار شخصیت تھے۔تو کل علی اللہ سب سے پہلے میں آپ کے تو کل کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔مجھے نہایت قریب سے آپ کو دیکھنے کا موقعہ ملا ہے آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بے انتہا تو کل تھا۔باوجود عسرت کے آپ نے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کیا۔پیش ارباب کرم ہاتھ وہ کیا پھیلاتا گوارا نہ ہوا جس کو تنکے کا بھی احسان ایک دفعہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل صاحب نے اپنے سٹاف کو حکم دیا کہ وہ اچکن پہن کر جامعہ آیا کریں۔آپ کے پاس کپڑا تھا اور نہ سلائی کیلئے رقم تھی۔اتفاق سے کسی جگہ سے کچھ کپڑے آئے اور سٹاف کے بعض ممبران نے ان سے استفادہ کیا اور آپ سے بھی کہا کہ آپ بھی 38 کلام ظفر فلاں جگہ سے کوٹ لے آئیں۔آپ نے فرمایا۔میں کوٹ لینے کے لئے نہیں جاؤں گا۔اپنی کسمپری پر نظر کرتے ہوئے آپ رات کو اٹھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور با چشم تر عرض کیا میرے مولی ! تو میری دلی کیفیت سے خوب آگاہ ہے کہ میں کسی کے سامنے سوال کرنے کا عادی نہیں اب تو ہی میرا انتظام کرنا اس حکم کی تعمیل میری مقدرت سے باہر ہے۔صبح آپ بیدار ہوئے تو بذریعہ ڈاک مولوی غلام حسین صاحب ایاز کا ایک پارسل آپ کے نام آیا اس میں اچکن کا کپڑا تھا۔ایاز صاحب نے لکھا کہ میں بازار گیا تو اچکن کیلئے ایک کپڑا مجھے پسند آ گیا میں نے آپ کی اچکن کیلئے بھی کپڑا لے لیا اور اسے آپ کو بھجوا رہا ہوں۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ایاز صاحب نے پندرہ بیس سال میں آپ کو کوئی خط نہیں لکھا تھا عین اس وقت جب آپ ایک حکم کی تعمیل سے عاجز تھے اللہ تعالیٰ نے سنگا پور سے آپ کیلئے اچکن کا کپڑا بھجوا دیا۔اب کپڑا تو آپ کو مل گیا اس کی سلائی کا کام باقی تھا اس کا انتظام یوں ہو گیا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک موکل آپ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اس سے فیس لے کر اس کا مقدمہ لڑیں۔چنانچہ اس شخص نے آپ کو فیس ادا کی اور آپ نے اس سے اچکن سلوالی۔توکل کے بارے میں آپ کا ایک شعر ہے ظ ـفــ عَلَ رضاء بالقضاء هوش میــــداری تــــــــــل ه الذِي حَى وَبَاقِ 1941,42ء کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹی سے نوازا جس کا نام آپ نے مبارکہ بیگم رکھا۔بچی کیا تھی ایک پارہ ماہتاب تھی جس کی من موہنی صورت ہر کسی کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔آپ کی بیگم صاحبہ کو بھی اس سے بے حد پیار تھا۔قضاء الہی سے وہ بچی فوت ہوگئی ہم کا ہونا تو طبعی بات تھی۔اس وقت استاذی المحتر م نہایت عسرت کی زندگی بسر کر رہے تھے، اس غم نے