کلامِ ظفرؔ — Page 22
27 کلام ظفر مکرم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کا کلام (پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی) باون ترپن کے زمانہ میں ، جب ہم لوگ ابھی ادب شناسی کی آنکھیں کھول رہے تھے ربوہ میں مکرم مولوی ظفر محمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ کی نظموں کا بہت شہرہ تھا۔مولوی صاحب موصوف احمدنگر میں رہتے تھے۔اس لئے ان سے روشناسی نہ ہوسکی حالانکہ حضرت خلیفة اصبح الثالث اور ابا جی اور مولوی صاحب تینوں کلاس فیلو تھے اور ہمارے گھر میں مولوی صاحب کا چرچا بھی رہتا تھا مگر کچھ ایسا حجاب آڑے آتا رہا کہ باوجود ان کی بعض نظموں کو پسند کرنے کے ان سے ملاقات کی جرأت نہ ہوئی اور سب سے زیادہ قلق اس بات کا ہے کہ مولوی صاحب کے عین حیات میں ان سے تعارف ہی حاصل نہ ہو سکا۔اب جب ان کے مجموعہ کلام پر کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو پرانی باتیں یاد آ رہی ہیں اور اپنی کوتاہی پر افسوس ہو رہا ہے کہ اتنے نابغہ وجود سے ملاقات کا شرف کیوں حاصل نہ کیا! آپ عربی ، فارسی اور اُردو کے فاضل تھے۔مدرسہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہوکر سلسلہ کی خدمت میں مستعد رہے۔ہم نے اپنی ہوش میں انہیں جامعہ احمدیہ کے استاد کی حیثیت سے جانا پہچانا۔حضرت مولانا ابو العطا صاحب کا رسالہ الفرقان جماعت کا فکری ترجمان سمجھا جاتا تھا۔مکرم مولوی صاحب کی اکثر نظمیں الفرقان میں شائع ہوتی تھیں۔الفضل میں بھی ان کی نظمیں احترام سے چھاپی جاتی تھیں۔یہ بات ہر شخص کے علم میں ہے کہ قادیان سے ہجرت 28 کلام ظفر کرنا بہت بڑا سانحہ تھا۔تمام بزرگ حتی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھی قادیان کے فراق میں آہیں بھرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے بموجب قادیان واپس جانے کی تمنائیں کرتے تھے مگر ان کی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا نہ ہوا اور وہ قادیان میں دوبارہ حاضر نہ ہو سکے۔مولوی صاحب کی جس نظم نے بہت شہرہ حاصل کیا وہ ان کی درویشان قادیان والی نظم تھی۔چھوٹے بڑے بینظم گنگناتے پھرتے تھے۔بہت بڑا ہے تمہارا مقام درویشو! کرو قبول ہمارا سلام درویشو! اس کے ساتھ ان کی ایک اور نظم نے بھی قبول عام کی سند حاصل کی : نہ بھر آہیں فراق قادیاں میں نہ ہو مصروف یوں آہ و فغاں میں خدا کے کام بے حکمت نہیں ہیں ہوا ہے مبتلا تو کس گماں میں رفتہ رفتہ قادیان کی ہجرت کا کرب گوارا ہوتا گیا۔وہ زخم مندمل تو نہ ہوا مگر اس کی کسک کم ہوتی گئی اور اب بھی جماعت احمدیہ قادیان سے محبت میں تو اسی طرح مستحکم ہے مگر اس کے ہجر و فراق میں اس طرح بے قرار نہیں رہی جتنی اس زمانہ میں تھی۔ربوہ میں نیا مرکز بن گیا۔پروانے شمع خلافت کے گرد جمع ہوتے رہے۔ربوہ نے مرجع