کلامِ ظفرؔ — Page 181
345 کلام ظفر 346 کلام ظفر قالَ النَّبِيُّ كَرِيمَ قَوْمٍ اكْرِمُوا وَاللهُ قَالَ لَا تَسُبُّوا وَتَسْخَرُوا حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر قوم کے بزرگ کی عزت کرو اور ارشاد الہی ہے کہ کسی کو گالیاں مت دو اور ٹھٹھا نہ کرو۔يَا مَنْ سَبَبْتَ اِمَامَنَا وَشَتَبْتَهُ اسَأُ فَإِنَّكَ صَاغِرُ بَلْ أَصْغَرُ اے ہمارے امام کو بُرا بھلا کہنے اور گالیاں دینے والے! تیراستیا ناس ہو۔تو خود ذلیل بلکہ ذلیل تر ہے۔هذِي تِجَارَتُكَ الَّتِي اخْتَرْتَهَا يا طالب الدُّنْيَا تَبُورُ فَتَخْسَرُ اے دُنیا کے طالب ! تو نے جو یہ سودا بازی اختیار کی ہے یہ تباہ ہونے والی ہے اور تُو گھاٹے میں ہی رہے گا۔إنَّ الْكَرِيمَ كَرِيمَ قَوْمٍ يُكْرِمُ اما اللَّهِيمُ فَلَا فَحَالَةَ يَحْذَرُ شریف انسان ہر قوم کے بزرگ کی عزت کرتا ہے لیکن کمینہ آدمی ہمیشہ یاوہ گوئی سے کام لیتا ہے۔کی بلا د شام سے واپسی پر بحسب السَّعي إكْرَامُ الْعِبَادِ انسان کی کوشش کے مطابق اُس کا احترام ہوتا ہے فَخَيرُ النَّاسِ مِكْتَارُ الْآيَادِي پس لوگوں میں بہترین وہ ہے جس کے احسانات زیادہ ہوں جَلَالَ الدِّينِ إِنَّكَ قَد سَعَيْت اے جلال الدین! آپ نے کوشش کی فَفُقْتَ وَنِلْتَ مِنْ كُلِ الْمُرَادِ تو فوقیت لے کر اپنی ہر مراد کو پالیا