کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 129 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 129

کلام ظفر عر 242 کلام ظفر (241 O چکر میں آسماں ہے گردش میں ہے زمانہ تقدیر نے لگایا کیا خوب تازیانہ اس جبر کے جہاں میں آزادیاں ہماری قصه ابلیس و آدم رانگر تو آدم و ابلیس کے قصہ کو غور سے دیکھ تابیابی نُور دل نورِ نظر تا تو نور دل (اور) نور نظر کو سکے نوٹ : ایک دفعہ خاکسار قرآن شریف کے حروف مقطعات کی روشنی میں غور کر رہا تھا کہ کیا قرآن شریف میں جو واقعات بار بار آئے ہیں اُن کے الفاظ میں زمانے کے مطابق تبدیلی ہوتی ہے یا نہیں۔اس پر مجھے اوپر کا شعر القاء ہوا۔اس پر میں نے بعد از تدثر اس اک آہنی قفس میں تنکوں کا آشیانہ سختی نہ کر زیادہ اے محتسب مبادا اظہارِ بے بسی ہو اقرار مجرمانہ الہامی شعر کے جواب میں بطور تشکر یہ شعر کہا: عر قصة ابليس و آدم دیده ام میں نے ابلیس و آدم علیہ السلام کے قصہ کو دیکھا ہے دِل مُنوّر شد از و هم دیده ام میں نے دل کو وہم سے دور ہو کر منو ر ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے