کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 265

کلامِ طاہر — Page 80

( ۹۹۲) کیا اُن کا بھروسہ ہے جو دیتے تھے بھر سے لو۔مرگئے، جیتے تھے جو پیاروں کے سہارے تم جن کا وسیلہ تھیں وہ روتی ہیں کہ تم نے دم تو ڑ کے توڑے ہیں ہزاروں کے سہارے وہ آخری ایام ، وہ بہتے ہوئے خاموش حرفوں کے بدن، اشکوں کے دھاروں کے سہارے بھیگی ہوئی بجھتی ہوئی ، مٹتی ہوئی آواز اظہار تمنا وہ اشاروں کے سہارے وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہنا دَمِ رخصت میں نے نہیں جینا نگہداروں کے سہارے وہ جن کو نہ راس آئے طبیبوں کے دلا سے شاید کہ بہل جائیں ، نگاروں کے سہارے آبیٹھ مرے پاس مرا دست تھی تھام مت چھوڑ کے جا درد کے ماروں کے سہارے 80