کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 265

کلامِ طاہر — Page 180

پر اثر پڑتا ہے اور ستم نظر آتا ہے۔لیکن میرے نزدیک یہ ستم نہیں۔پھر سلیم صاحب کا یہ شعر دیکھیں۔ان بہتے آنسوؤں کا ہی تحفہ قبول ہو ہے اس کے پاس کیا جو یہ تیرا غلام ہے اس کے پہلے مصرع میں ظاہر اوزن ٹوٹتا ہے۔اور بہتے میں زیر پڑھنی پڑتی ہے۔بڑی نے نہیں پڑھی جاسکتی۔یا ساکن یا زیر کے ساتھ الگ سے ت آ سکتی ہے؟ ئے کی گنجائش ہی نہیں۔ان کی اس نظم کا اس سے اگلا شعر۔پہرے بٹھا دے میری سماعت پر یا خدا ہی اس کی مثال ہے۔حالانکہ بڑے قادر الکلام ہیں مگر یہ ستم ہے۔اور وزن کے اعتبار سے پہرے میں صرف زیر پڑھنی پڑتی ہے۔اس پہلو سے اگر آپ اپنے کلام پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی آپ کو اس کی کئی مثالیں ملیں گی۔صرف کلام کی مجبوریاں سمجھانے کی خاطر ایک آدھ مثال بیان کر دیتا ہوں۔کیا خوب مصرع ہے۔خشک آنکھوں سے نیر بہاؤں چہرے پر مسکان سجاؤں لیکن اس میں صرف سجا پڑھا جا سکتا ہے۔'وں زائد ہے لیکن شعراء عملاً ایسا کرتے ہیں۔اجازت ہوتی ہے۔ہرگز معیوب نہیں سمجھا جاتا۔پھر یہ مصرع ملا حظہ فرمائیں۔پھر کس گن پر اتر اؤں اور فخر و مباہات کروں اب اس میں اگر پھر ہلکا پڑھیں تو پھر کسی گن پر اتراؤں میں، ہونا چاہئے یعنی ایک میں ڈالنا پڑے گا۔اور اگر پھر زور سے پڑھیں تو آپ والا مصرع موزوں ہو جائے گا۔پس اس میں پڑھنے کے انداز کے فرق کی وجہ سے دو صورتیں ممکن ہیں۔ایک ہے۔دپھر کس گن پر اتراؤں 26