کلامِ طاہر — Page 181
پھر کس گن پر میں اتراؤں اس میں لفظ میں زائد کرنے کے باوجود وزن دونوں کا ایک ہے۔بہر حال انداز قراءت نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات نقص کا گمان ہوتا ہے۔پڑھنے والے کے انداز پر اس کی درستی یا سقم کا انحصار ہے۔عام بول چال میں بھی اس کی مثالیں بہت ملتی ہیں۔چنانچہ بولنے والا حسب حالات' آ۔ائے کہتا ہے اور کبھی soft 'آئے کہتا ہے۔جیسے کہتے ہیں۔کب آؤ گے پیتیم پیارے یہاں۔اؤ دو آوازیں ہیں اور آؤنا جب کہتے ہیں تو اس میں دو آواز میں نہیں نکلتیں اور دوسری حرکت شدید نہیں پڑھی جاتی۔زیر نظر مصرع میں آپ کو کیوں آئے پر اعتراض ہے۔اگر آپ اس کی ترتیب بدل لیں یا اس کی جگہ دوسر الفظ لانے پر مصر ہیں تو بے شک اس کو یوں کر لیں۔میں اس سے جدا ہوں مجھے کیوں آئے کہیں چین " نظم نمبر ۱۰ (مکتوب ۹۳-۵-۱۵ صفحه ۷ تا ۹) اے میرے سانسوں میں بسنے والو آپ نے میری سانسوں تجویز کیا ہے۔ہم نے تو سانس کا لفظ ہمیشہ مذکر ہی استعمال کیا ہے۔اور بالعموم اس کا مذکر استعمال ہی سنا ہے۔آپ کی اس تجویز پر میں نے لغت بھی چیک کی ہے اس میں اس کا استعمال مذکر اور مؤنث دونوں طرح سے آیا ہے۔جامع اللغات میں لکھا ہے سانس اندر کا اندر باہر کا باہر۔سانس پورے کرتا ہے۔سانس کا روگ وغیرہ وغیرہ۔بہر حال اگر چہ مؤنث استعمال ہوسکتا ہے اور شاید لکھنوی زبان کی نزاکتوں اور لطافتوں کے تابع وہاں مونث کا استعمال رائج ہولیکن میں نے گھر میں اسے کبھی مؤنث نہ استعمال کیا نہ سنا۔لغت بھی اس کے استعمال سے مانع نہیں اس 27 22