کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 265

کلامِ طاہر — Page 174

نظم نمبر ۲ نظم آج کی رات میں ایک شعر ہے۔آنکھ اپنی ہی ترے ہجر میں پکاتی ہے وہ لہو جس کا کوئی مول نہیں ، آج کی رات اس کے پہلے مصرع کے متعلق حضور فرماتے ہیں۔اس کے متعلق تجویز ہے کہ اسے یوں بدل دیا جائے چشم عاشق ہی ترے ہجر میں ٹپکاتی ہے۔مجوزہ مصرع دیکھنے میں تو بہت چست لگتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ، آنکھ اپنی ہی ترے ہجر میں ٹپکاتی ہے۔میں جو بات میں کہنی چاہتا ہوں وہ چشم عاشق میں آہی نہیں سکتی۔میں تو طعنہ آمیز دشمن کے مقابلہ پر اپنی ہی آنکھ کی محبت کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں، چشم عاشق نے تو اس مضمون کا کچھ رہنے ہی نہیں دیا جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔دوسرے میں نے عمداً ہجر کو چھوڑ کر عشق اختیار کیا تھا کیونکہ بحث یہ نہیں کہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصل سے محروم ہیں کہ نہیں۔بحث یہ ہے کہ ہمارا دل آپ کے عشق سے خالی ہے یا لبالب بھرا ہوا ہے۔پس ہر چند کہ اس مصرع میں لفظ ہجر پڑھنا عشق پڑھنے کی نسبت زبان پر ہلکا ہے۔مضمون کی مناسبت سے عشق ہی موزوں ہے۔پس یہ مصرع یوں ہی رہے گا ، آنکھ اپنی ہی ترے عشق میں ٹپکاتی ہے۔“ ☆۔۔۔۔۔( مكتوب ۱۶۔۱۔۹۳ صفحه (۸) و کاش اُتر آئیں یہ اڑتے ہوئے سیمیں لمحات کا متبادل آپ نے یہ تجویز کیا ہے۔کاش رُک جائیں یہ اڑتے ہوئے سیمیں لمحات یہ تو بڑا خطرناک مشورہ ہے کیونکہ اڑتے ہوئے رکیں گے تو مریں گے گر کر۔میرا جو تصور ہے وہ تو یہ ہے کہ جس طرح پرندے اترتے ہیں اسی طرح یہ روحانی لمحات نور کے پرندوں کی طرح اتر 20