کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 265

کلامِ طاہر — Page 173

پہلے یہ مصرع یوں تھا : متلاطم عرفان کا قلزم۔بہ نکلا عرفان کا قلزم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضور رحمہ اللہ نے اس کو درست فرمایا۔سوچ کی گہرائی کا اندازہ کیجئے۔درست کرنے کی وجہ اور مضمون سے وفا کا اندازہ لگائیے۔تحریر فرماتے ہیں: یہ بھی ان جگہوں میں سے ایک ہے جس کو میں نے پہلے ہی نشان لگا رکھا تھا کہ وقت ملا تو ٹھیک کرنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی تجویز موج میں تھا عرفان کا قلزم بہ نکلا عرفان کا قلزم سے بہت بہتر ہے۔مگر پہلے جو مضمون بیان ہوا ہے اس کے ساتھ موج میں تھا۔۔۔مطابقت نہیں رکھتا۔موج میں تھا' کا مضمون ایک ساکت جامد حالت کو پیش کر رہا ہے لیکن پہلی طرز بیان تقاضا کرتی ہے کہ ایک چیز سے دوسری چیز ہو گئی کی طرز پر اس میں کچھ ہو جانے یا کسی تبدیلی کا ذکر پایا جانا چاہئے جیسے عربی میں اصبح سات وغیرہ کلمات سے ادا کیا جاتا ہے۔موج میں ہو گیا کا انداز ہونا چاہئے تھا یا پھر فعل کا استعمال کلیۂ ختم کر کے اس مصرع کو صفت موصوف کی ترکیب میں پڑھا جائے تو تب بھی کوئی حرج نہیں۔اس مجبوری کی وجہ سے میں نے موج میں تھا کی بجائے بہہ نکلا کے الفاظ میں مضمون بیان کرنے کی کوشش کی لیکن دل میں یہ کھٹک تھی کہ بہہ نکلا۔۔۔قلزم کے متعلق کہنا جائز نہیں۔کیوں نہ اس مصرع کا تعلق پہلے بند کے جاری مضمون سے توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات سے باندھ دیا جائے۔اس صورت میں یہ مصرع یوں بنے گا: لیتا ہے۔متلاطم عرفان کا قلزم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مصرع کا پہلا نصف دوسرے نصف کے ساتھ نسبت توصیفی یا نسبت بدل اختیار کر (مکتوب ١٦ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه (۱۵) 19