کلامِ طاہر — Page 171
دنیا یا علماء سوء ہمیں جدا جدا نہ سمجھتے۔مگر یہ اظہار اس چھوٹے سے مصرع میں سمانا مشکل ہے۔بہر حال خواب میں جو کیفیات تھیں میں اُن کے ساتھ وفاداری کرنا چاہتا ہوں۔ان میں درد کا مضمون تھا بحث کا نہیں۔آپ نے جو یه تجویز دی امت تری سمجھتی نہیں کیوں یہ ماجرا۔اس کیوں میں تو بحث کا رنگ ہے جبکہ جداجدا میں اظہار درد اور بیکسی ہے۔ایک متبادل یہ بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے بلکہ یہی اختیار کرلیں۔اے میرے والے مصطفیٰ اے سید الوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا۔☆۔۔۔۔۔۔☆ اُڑتے ہوئے بڑھوں ،ترکی جانب سوئے حرم“ جدا اس مصرع میں آپ نے اُڑتا ہوا، تجویز کیا ہے۔آپ کی یہ تجویز مجھے قبول تو ہے۔لیکن میں نے اگر چہ اردو گرائمر زیادہ نہیں پڑھی پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ اُڑتے ہوئے بھی ٹھیک ہے۔خصوصیت سے یہ تخاطب کے وقت استعمال ہوتا ہے۔غائب میں اُڑتا ہوا پڑھتے ہیں لیکن مخاطب میں اُڑتے ہوئے پڑھنا جائز ہے۔اس لئے میں تو اسے اُڑتے ہوئے پڑھوں تو مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے۔مگر آپ کی یہ تجویز مان لیتا ہوں کیونکہ میرے مضمون پر اس کا اثر نہیں پڑے گا“۔نظم نمبر ۳ حضرت سید ولد آدم الله (مكتوب ۹۳۔۱۱۔۱ صفحه ۱۲) پیارے حضور نے ایک شفیق ماں کی طرح جو اپنے نادان بچے کو قریب تر کر کے زیادہ تفصیل سے آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے ایک ایک تبدیلی کی حکمت سمجھائی۔نبیوں کا سرتاج ابنائے آدم کا معراج محمد " 17