کلامِ طاہر — Page 170
چاہئے جو میری تھی۔اس طرز بیان میں اظہار عشق بھی محض میرے مصطفیٰ، کہنے کے مقابل پر بہت زیادہ زور مارتا ہے۔پس رویا میں ہی میں یہ نہیں سمجھ رہا کہ اس میں کوئی نقص ہے بلکہ اس ظاہری نقص میں مجھے فصاحت و بلاغت کی جولائی دکھائی دی اور مضمون میں مقابلہ بہت زیادہ گہرائی نظر آنے لگی۔علاوہ ازیں چونکہ یہ طرز بیان محض ریڑھی والوں کی نہیں ہوا کرتی جو کہ ایک عامیانہ طرز ہے بلکہ بچوں کی سی ادا بھی ہوا کرتی ہے جس میں معصومانہ پیار اور اپنائیت جوش مارتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں نے نہ صرف خواب میں ظاہر کردہ الفاظ کے ساتھ وفا کی بلکہ اسے ہر دوسری طرز بیان سے بہتر بھی پایا۔ہاں اے میرے والے مجتبی اے میرے مصطفیٰ کے بعد پورا ستجتا نہیں۔ویسے بھی مصطفی مجتبی ، مرتضی و غیرہ خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں اس کی جگہ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ کردوں : اے میرے والے مصطفیٰ ، اے میرے راہنما یا پھر ”اے میرے والے مصطفیٰ میں ہو چکا ترا بھی کر سکتے ہیں۔لیکن اس شعر کے دوسرے مصرع میں جو الفاظ ہیں رویا میں قریباً یہی الفاظ تھے جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے مگر سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتا۔اس میں لفظ ” تیری شامل ہوتا تو لفظ امت کی وضاحت تو ضرور ہو جاتی کہ کس کی امت مراد ہے مگر ایسی اُمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف منسوب کرنا جو مہدی کو ہادی سے جدا سمجھے پسندیدہ بات نہیں ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی عُلَمَاءُ هُمْ کہہ کر ان علماء کو اُن لوگوں کی طرف منسوب کر دیا جن کا ذکر سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانُ۔۔۔۔کی حدیث میں مذکور ہے۔اور ان کے لئے عُلَمَاءُ امنی نہیں فرمایا ہاں جہاں ربانی علماء کا ذکر فرمایا وہاں یہ فرمایا کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَآئِیل۔پس اگر چہ محض امت کا لفظ کچھ خلا کا سا احساس پیدا کرتا ہے مگر اسے تیری امت کی بجائے کسی اور رنگ میں بدلا جا سکے تو بہتر ہو گا۔مثلاً اس طرح کہ اہل 16