کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 265

کلامِ طاہر — Page 168

پھریوں ہو کہ ہو دل پر - الہام کلام اُس کا اُس بام سے نور اترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اٹھے خوشبو۔ہو جائے سرود عنبر (مکتوب ۱۲ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۵۔۴) شاعری جزویست از پیغمبری اس سے زیادہ کہیں اور صادق نہیں آتا۔کچھ ترامیم و اضافے کے بعد اس کا حسن دوبالا ہو گیا تھا۔میں نے حضور انور کی خدمت میں نظم سن کر اپنے تاثرات لکھے۔میں نے تو کیا لکھا ہوگا ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مگر آپ کا مکتوب آ پ کے حسن و احسان کا مرقع ہے۔آپ کی طرف سے لجنہ امریکہ سے خطاب کا اردو ترجمہ اور میرے کلام کا کتابت شدہ مسودہ موصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اپنے خط میں آپ نے نعت ظہور خیر الانبیاء صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حوالے سے جو تبصرہ کیا ہے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ایک تو یہ کہ ماشاء اللہ بہت ہی خوبصورت زبان میں تبصرہ کیا ہے اور جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ بھی بہت لطیف ہیں۔اور یہ بھی بالکل درست ہے کہ اس نظم پر محض آپ کی یاد ہی نہیں آئی بلکہ جذبہ احسان کے ساتھ یاد آتی رہی۔کیونکہ اس کے بہت سے شعر ایسے تھے جن کے متعلق مجھے خیال تھا کہ اصلاح کے محتاج ہیں لیکن وقت نہیں ملتا تھا۔آپ نے درست طور پر ان کی نشان دہی کی اور اصلاح کروا کے چھوڑی اور نہ میں کئی سال سے اسے ٹال رہا تھا اس لئے یہ نعت اور اس کے علاوہ کئی اور نظموں پر آپ کی توجہ کے نتیجہ میں جو وقت نکالا ہے یہ مواقع ہمیشہ جذ بہ احسان کے ساتھ آپ کی یاد دلاتے ہیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والاخرة “۔نظم نمبر ۲ (مکتوب ٢٢ أكتوبر ١٩٩٣ء) 14