کلامِ طاہر — Page 167
فرمائے لیکن بہت دُور کھڑی میں اس بات سے لطف لیتی رہتی ہوں کہ ہو سکتا ہے اس تبدیلی میں خاکسار کی تحریک کا کوئی دخل ہو۔جب یہ نظم جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۹۳ ء میں پڑھی گئی تو میں نے فون پر سنی اور نوٹ کی۔آپ نے درج ذیل اشعار کا اضافہ فرمایا تھا۔مکتوب میں تحریر ہے: " کہیں کہیں مضمون کو مزید اجاگر کرنے کے لئے بعض اشعار کا اضافہ بھی کرنا پڑا ہے مثلاً ظہور خیر الانبیاء کے آخری بند کو تبدیل کرنے کے علاوہ ایک بند بڑھا بھی دیا ہے۔اب اس کی شکل یوں بن جائے گی: دل اس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اس کا اخلاص میں کامل تھا مرزائے غلام احمد -۔وہ تھی عاشق نام اس کا جو بھی متاع جاں کر بیٹھا نثار اس پر۔ہو بیٹھا تمام اس کا اس دور کا ساقی - گھر سے تو نہ کچھ لایا ئے خانہ اس کا تھا۔کے اُس کی تھی جام اُس کا سازندہ تھا یہ اس کے۔سب ساجھی تھے میت اس کے دُھن اُس کی تھی گیت اُس کے لب اس کے پیام اُس کا اک میں بھی تو ہوں یارب۔صید نه دام اُس کا دل گاتا ہے گن اس کے لب جیتے ہیں نام اُس کا آنکھوں کو بھی دکھلا دے۔آنا لب بام اُس کا کانوں میں بھی رس گھولے۔ہر گام۔خرام اس کا خیرات ہو مجھ کو بھی۔اک جلوہ - عام اُس کا سته 13