کلامِ طاہر — Page 163
اصلاح کے مشورے اور اصلاح قبول کرنے کے اختیار کے ساتھ آپ نے فلسفہ اصلاح بھی سمجھایا۔فرماتے ہیں: رہا فلسفہ اصلاح تو میرے نزدیک ہر قادر الکلام استاد کا یہ حق تو ہے کہ کسی دوسرے کے شعر کی اصلاح کرے لیکن اصلاح کا حق صرف اتنا ہی ہے کہ اس مضمون کو تبدیل کئے بغیر جو شاعر بیان کرنا چاہتا ہے۔بہتر الفاظ میں (زبان کے سقم کو دور کر کے ) بیان کرنے میں اس کی مدد کرے یا اگر طرز بیان بے جان ہے تو الفاظ کے تغیر و تبدل سے اسی مضمون میں جان ڈال دے مگر نیا مضمون داخل کرنے کو میں اصلاح نہیں سمجھتا ، نہ ہی زبان کی اصلاح کرتے کرتے مضمون کا حلیہ بگاڑ دینا میرے نزدیک اصلاح میں داخل ہے۔(مکتوب ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۳) خاکسار تسلیم کرتی ہے کہ اپنی کم فہمی کی وجہ سے ذوقِ سلیم کی بلندیوں پر متمکن پیارے حضور کی کوفت کا سامان کیا۔مگر یہ تو دیکھئے کہ اس معدن علم پر ہلکی سی دستک سے کیا کیا خزائن ابل پڑے، کیسے کیسے ٹھنڈے میٹھے پانیوں کے چشمے جاری ہو گئے۔ایک کوہ وقار کے نہاں خانہ دل کی کچھ کھڑکیاں کھل گئیں۔پس میری کوتاہیوں سے صرف نظر کر کے اس سدا بہار گلستان کی سیر کیجئے۔فرماتے ہیں: جو کام سالہا سال سے کرنے کو پڑا تھا مگر نہ وقت ملتا تھا نہ دماغ میسر آتا تھا وہ آپ نے آسان کر دیا۔نشان لگا کر بھیج دئے اور پیچھے پڑ کر مجبور کر دیا کہ اب اس کام کو نہ ٹالو حسنِ اتفاق سے مسودہ ملنے کا وقت بھی نہایت موزوں ثابت ہوا۔چنانچہ کینیڈا سے واپسی پر ہالینڈ میں قیام کے دوران کچھ فرصت میسر آگئی اور اللہ کے فضل سے دو دن کے اندر ہی ان مقامات کی تصحیح کی توفیق مل گئی جن کے متعلق دیرینہ خلش تو تھی مگر وقت کے ہاتھوں مجبور تھا۔یہی روک تھی کہ کبھی کسی کو کلام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی اور جنہوں نے بلا اجازت شائع کیا انہوں نے نہ صرف اس حصے کو اسی طرح غلط شائع کر دیا جس پر میں نظر ثانی کرنا چاہتا تھا بلکہ ہو کتابت کی وجہ سے سو نہم کی بناء پر کلام میں مزید بہت سے سقم پیدا کر دئے۔مثلاً اضافت کا غلط استعمال، الفاظ کی بے جا تکرار وغیرہ۔جس نے 9