کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 265

کلامِ طاہر — Page 164

مضمون بھی بگاڑا اور وزن بھی تو ڑا۔علاوہ ازیں بعض الفاظ کا چھٹ جانا وغیرہ وغیرہ۔اب ان سب جگہوں پر میں نے درستی کر دی ہے مگر یہ غلطیاں نہیں تھیں بلکہ کتابت یا ناشر کے فہم کا قصور تھا۔لیکن اس قبیل کے قابل اصلاح شعروں کے علاوہ بھی متعدد ایسے اشعار تھے جو کئی طرح کے ستم رکھتے تھے جن کے لئے دماغ اور وقت کا میسر آنا ایک مسئلہ بنا ہوا تھا۔مدت سے ذہن یہی بات سوچتا اور ٹالتا رہا کہ کسی وقت تسلی سے ٹھیک کر کے زبان کے تقاضے قربان کئے بغیر مضمون کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔اور اگر آپ اس طرح مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ مجھے بار بار تنگ نہ کرتیں تو شاید یہ کام کبھی بھی نہ ہوتا۔کا کا ☆۔۔۔۔۔۔✰ (مكتوب ١٦ جنوری ۱۹۹۳، صفحه (۳) لفظوں کے حکیمانہ انتخاب میں جانکاہی کی چند مثالیں پیارے حضور نے نظموں کی اصلاح کرتے ہوئے جو حکمتیں سمجھائی ہیں وہ علوم کا ایک خزانہ ہیں۔جن کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو سرسری نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ حرف حرف اور لفظ لفظ کے مزاج کی تہ میں اترتے ہوئے مناسب جگہ پر استعمال فرماتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ایک مربوط فکری پس منظر ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ میں جو شعر کہتا ہوں وہ صرف اکیلا ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ اس کی دس دس اور پندرہ پندرہ متبادل صورتیں ذہن میں آئی ہوتی ہیں اور پھر ان میں سے ایک کو کسی وجہ سے چتا ہوں۔تو اب میں آپ کو اپنے ساتھ وہ سارا سفر کس طرح کرواؤں کہ کیوں بالآخر متعدد امکانی صورتوں میں سے ایک کو اختیار کیا۔(مکتوب محرره ۲۲/اکتوبر ۱۹۹۳ء صفحه ۱۳) ☆ اب حضور پر نور کے مکاتیب سے لفظوں کے چناؤ میں جانکاہی کی کچھ مثالیں پیش کرتی ہوں۔نظم نمبر ا 10