کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 265

کلامِ طاہر — Page 72

تیری ہی قم کہ دوبارہ جی اٹھوں گا ہے ترا نفخ رُوح میرے دل زار تک تو پہنچے جو نہیں شُمار اُن میں تو غُراب میں تو غُراب پر شکستہ تیرے پاک صاف بگلوں کی قطار تک تو پہنچے تیری بے حِساب بخشش کی گلی گلی ندا چا کر گنہگار دول نوید تیرے گنہگار تک تو پہنچے شجر خزاں رسیده ہے مجھے عزیز یا رب اک اور وصل تازہ کی بہار تک تو پہنچے میلا سُراغ تیرا جنہیں اپنی حبلِ جاں میں نہ خود اپنی ہی انا کے بُہت نار تک تو پہنچے وہ کے فکر عاقبت ہے انہیں بس یہی بہت ہے کہ رہین مرگ داتا کے مزار تک تو پہنچے ہے عوام کے گناہوں کا بھی بوجھ اس خبر کسی طریقے بھاری حمار تک تو پہنچے 72