کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 265

کلامِ طاہر — Page 33

کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چڑھتی ، وہ دن آنا تھا کہ پھٹتی وہ دن آیا اور فریب کا ، چوراہے میں بھانڈا پھوٹا کہتے ہیں پولیس نے آخر ، کھود پہاڑ نکالا چوہا جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِل ، أَنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جاؤں ہر دم تیرے وارے ، میرے جانی میرے پیارے تو نے اپنے کرم سے میرے ، خود ہی کام بنائے سارے پھر اک بار گڑھے میں تو نے ، سب دُشمن بچن چن کے اُتارے کر دیئے پھر اک بار ہمارے آقا کے اُونچے مینارے اے آڑے وقتوں کے سہارے ، سُبحان اللہ یہ نظارے اک دشمن کو زندہ کر کے مار دیئے ہیں دشمن سارے دیکھا کچھ۔مغرب کے اُفق سے کیسا سچ کا سُورج نکلا مجھ گئے ویب طلسم نظر کے بیٹ گئے جھوٹ کے چاند ستارے اپنا منہ ہی کر لیا گندا ، پاگل نے جب چاند پر تھوکا جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِل ، انَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا 33 جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۸۸ء)