کلامِ طاہر — Page 202
ہم نے کوئلہ کوئلہ اپنا دل۔میں یہ امر مانع تھا کہ اول اس طرح ایک ایک کر کے کوئلے کے بعد دوسرے کو ملے کا تصورا بھرتا ہے جبکہ موجودہ جگہ پر کوئلہ کی تکرار پہلے ہی سے جل جل کر کوئلہ ہوئے ہوئے دل کا تصور پیش کرتی ہے۔آنچل لہرانے یا بکھرانے میں یہ روک پیش نظر تھی کہ دو تین شعر جو اس غزل میں پڑھے نہیں گئے اُن میں ایک آنچل لہرانے والا شعر بھی تھا۔دوسرے یہ نہ بھی ہوتا تو شفق کے چہرے پر آنچل ہرانے یا بکھرانے کی بجائے گیسو بکھرانے کا مضمون زیادہ بر حل معلوم ہوتا ہے۔آنچل سے یا پلو سے چہرہ چھپایا تو جاتا ہے چہرے پر آنچل لہرایا یا بکھرایا نہیں جاتا۔جو شعر پڑھے نہیں گئے ان میں سے جو یاد ہیں وہ لکھ دیتا ہوں۔سه خالق کی طرح پر بت بھی ایک نئی شان ہر آن بدلتا ہے موسم کے رقص وسرود نے جلووں کا دربار لگایا ہے چمپئی ، کاسنی، اودے، پہلے پھول کھلے ہیں بہکی بہکی مست ہواؤں نے آنچل لہکایا ہے دور افق پر اور ہی رُت ہے چھائی ہے گھنگھور گھٹا بادل نے بجلی نے گرج نے ایک کہرام مچایا ہے اس طرح کے سچے اچھے خط آپ بے شک، بے جھجک لکھا کریں۔ایسے خطوں سے چلتے چلتے ، ر کے بغیر سستانے کے سامان ہو جاتے ہیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔آپ کی لجنہ کی مصروفیات کی رپورٹ دل سے دعا ئیں کومتی ہے جزاکم اللہ احسن الجزاء۔والسلام 48 خاکسار ( دستخط )