کلامِ طاہر — Page 203
پیارے آقا کو خوشیاں بانٹنے کا عجیب ملکہ حاصل تھا۔یہ الفاظ اب بھی دماغ میں گونجتے ہیں۔ایم ٹی اے کی نشریات کے بالکل آغاز میں ۱۴؍ جنوری ۱۹۹۴ء کو ملاقات پروگرام میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امتہ الباری ناصر یہ پروگرام سن رہی ہوں تو یہ رباعی بھی کلام طاہر میں شامل کرلیں۔بذل حق محمود میری کہانی کھوگئی ނ وہ بذل حق سے روٹھ کر واصل حق ہوگئی نذر راوی کی تھی میں نے کتنے ارمانوں کے ساتھ ناؤ لیکن کاغذی تھی غرق راوتی راوتی ہو گئی۔✰✰✰۔۔۔✰ وہ کرتے ہیں احسان احسان ہمیشہ وراثت میں پائی ہے شان کریمی ہیں مرد خدا میں خدا کی ادائیں وگرنہ میں کیا میری ہستی ہی کیا ہے ہے ناچیز ذروں کی خاطر شغف میرے سورج کا شعر و ادب میں غنیمت ہے سایه نگن آسماں معرفت کا زمیں رو بہت آیا ہوا ہے میں لاؤں کہاں سے وہ الفاظ جن میں ادا کرسکوں شکریہ جیسا حق ہے ہے جا رہے ہیں تشکر کے آنسو مرا پگلا دل آج پگھلا ہوا ہے بڑی عاجزی سے میں سر کو جھکائے خدا سے یہی اک دعا مانگتی ہوں میرے آقا کی ساری دعائیں ہوں پوری ، علاوہ ازیں، چاہئے اور کیا ہے ☆☆☆۔۔۔۔۔49