کلامِ طاہر — Page 201
پیارے آقا کی شخصیت کے کئی روپ کھلتے ہیں۔دست مبارک سے تحریر فرمایا: ۹-۹۰ - ۱۹ عزیزه مکرمه امته الباری ناصر السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کانت۔جلسہ پر پڑھی جانے والی نظموں کے متعلق محبت بھرے رنگا رنگ خطوط ملتے ہیں لیکن سب پر محبت کا رنگ غالب رہتا ہے اس لئے پوری طرح اطمینان نہیں ہوتا کہ کسی نے متوازن تنقیدی نظر سے بھی جائزہ لیایا نہیں۔کبھی کبھی سلسلہ کے بعض چوٹی کے شعراء اور ادیب بھی جب اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ تعریف تو سچی کر رہے ہیں لیکن خامیوں کے متعلق صرف نظر کر جاتے ہیں آپ کا آج کا خط مستثنیٰ ہے۔پہلی بات تو یہ نمایاں ہے کہ تمام تریج ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں۔جہاں کچھ اصلاح کی گنجائش دیکھی وہ بڑے علائم دلپسند الفاظ میں تجویز کر دی۔انکسار کی آمیزش نے ان الفاظ کو اور بھی شائستہ بنا دیا۔دوسری نمایاں بات یہ ہے کہ آپ کے تبصرہ میں بھنورے کا سا رنگ پایا جاتا ہے۔دور ہی سے دیکھا اور سونگھا نہیں بلکہ بھنورے کی طرح ہر شعر کے دل میں ڈوب کر پردوں میں لپٹی ہوئی روح سے شناسائی کے بعد لب کشائی کی ہے۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ میرے دل کی سب باتوں تک آپ اتر گئیں لیکن یہ ضرور کہ سکتا ہوں کہ بند کواڑوں والے گھر کو راستہ چلتے ٹھہر کر نہیں دیکھا بلکہ کواڑ کھول کر اندر سے بھی جائزہ لیا۔ایک اور بات یہ بھی کہہ سکتا ہوں کواڑ کھلوائے نہیں خود کھولے ہیں یعنی آپ کی اپنی چابی ہی سے تالے کھل گئے۔جہاں تک اصلاح کے اشاروں کا تعلق ہے ذوق لطافت سے تو انکار نہیں لیکن میری سوچیں جن راہوں سے گزر چکی ہیں ان کا آپ کو علم نہیں۔۔47