کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 265

کلامِ طاہر — Page 115

پربت کا کٹنا یا اس کے جی پر آفت ڈھائے اولوں کا پتھراؤ کرے اس پر اور شرم دلائے نالے تین کریں اور ندیاں منہ جھاگ اڑائے اپنا پتھروں پھیلیں کو بھرائے سینے کو آخر سما کھلے تو دیکھے پھٹ بھی گئے ، اندھیارے من جلائے مندر میں سورج بیٹھا اُس کا دیپ سوندھی سوندھی باس وطن کی مٹی میں سے اٹھے تب سب نوحے بھول کے وہ بس راگ ملن کے گائے پیتیم یاد میں ڈوبا ڈوبا پریم نگر کو جائے ایک ہی دھن میں گم ہو ، من میں ایک ہی یار بسائے اس کے پاؤں دھو کے پئیں ساگر کی موجیں جب وہ جھینپا جھینپا اس میں اترے شرمائے شرمائے۔میری موجوں سے لپٹ جا ساگر تان اڑائے یہ بھی تو سنسار کی ریت ہے جو کھوئے سو پائے 115