کلامِ طاہر — Page 114
روٹھا روٹھا ، غم کا مارا ، وہ بادل آواره دیس سے ہو کے بدیس کسی انجانے دیس کو جائے ہردے پر جبر کرے لیکن جب صبر نہ آئے چھم چھم نیر بہائے би بے چارہ دکھیا نکینوں سے پھر بھی چین نہ آئے ، گھر کی یاد بہت ترسائے جیسے زخمی مچھلی تڑپے، تڑپے اور بل کھائے یادوں کا طوفان اٹھ کر مَن میں کہرام مچائے برہا کی اگنی بجلیاں بن کر آگ کا مینہ برسائے دکھ کا ایک جوالا مکھی سینے میں پھٹ جائے پھوٹ کے بادل برسے ، گرجے ، کڑکے ، شور مچائے پچھتائے اور اپنے من پر آپ ہی دوش لگائے بلک بلک کر اک سنیاسن کا یہ دوہا گائے جاؤ سدھارو تم بھی سدھارو ، روکے تم کو کوئے اس سنسار کی ریت یہی ہے جو پائے ہے جو پائے سو کھوئے راہ میں پر بت پاؤں پڑے بہلائے اور پھیلائے یار کسی کا اپنانے کو حیلے لاکھ بنائے 114