کلامِ طاہر — Page 108
لیکن شاید کبھی سوچا ہوگا روز قیامت تم جیسوں سے کیا ہوگا تم پر بھی تو ایک عدالت بیٹھے گی جیسا کیا ہے، ویسا ہی بھرنا ہوگا ہم تو رضائے باری پر ہی جیتے ہیں اس کی رضا پر ہی اک دن مرنا ہوگا روئیں گے تو اُس کے حضور مگر تم سے ہنس ہنس کر ہم نے ہر دکھ سہنا ہوگا تم میں اگر ہے اچھا، ایک۔ہزار بُرے ہم میں ایک بُرا تو ہزار اچھا ہوگا 1 108