کلامِ طاہر — Page 88
} گواہ دو ہیں ، دو ہاتھوں سے چھائیاں پیلو تخوف شمس و قمر ، بار بار کر دیکھو جلن بہت ہے تو ہوتی پھرے نہ نکلے گی بھڑاس سینے کی ، بک بک ہزار کر دیکھو قفس کے شیروں سے کرتے ہو روز دو دو ہاتھ دو آنکھیں بن کے بیر سے بھی چار کر دیکھو مری سُنو تو پہاڑوں سے سر نہ ٹکراؤ جو میری مانو تو عجز اختیار کر دیکھو (جلسہ سالانہ یو کے ۳۱ / جولائی ۱۹۹۴ء) 88