کلامِ طاہر — Page 87
آمد امام کامگار (منکرین سے خطاب) ہیں آسمان کے تارے گواہ ، سُورج چاند پڑے ہیں مائد ، ذرا کچھ بچار کر دیکھو ضرور مهدي دوراں کا ہوچکا ہے ظہور ذرا سا نُور فراست نکھار کر دیکھو کڑانے تم پہ لٹائے گا لا جرم لیکن بس ایک نذرِ عقیدت گزار کر دیکھو لر ہے ضد کہ نہ مانو گے ، پر نہ مانو گے تو ہو سکے جو کرو ، بار بار کر دیکھو بدل سکو تو بدل دو ، نظامِ شمس و قمر خلاف گردشِ لیل و نہار کر دیکھو پکٹ سکو تو پکٹ دو ، شرامِ شام و سحر حساب چرخ کو بے اعتبار کر دیکھو جو ہو سکے تو بستاروں کے راستے کاٹو کوئی تو چارہ کرو ، کچھ تو کار کر دیکھو سوار لاؤ ، پیارے بڑھاؤ ، چڑھ دوڑو جو بن سکے جو بن سکے وہ بیٹے کار زار کر دیکھو خُدا کی بات ملے گی نہیں ، تم ہو کیا چیز اٹل پٹان ہے ، سر مار مار کر دیکھو اُتر رہی ہیں فلک سے گواہیاں۔روکو وہ غل غپاڑہ کرو ، حال زار کر دیکھو - 87 ---۔+