کلامِ طاہر — Page 71
مِیرا نالہ اُس کے قدموں کے غبار تک تو پہنچے کبھی اذن ہو تو عاشق درِ یار تک تو پہنچے وہ ذرا سی اک نگارش ہے نگار تک تو پہنچے نکل چکا ہے ، یا رب دِلِ بے قرار قابو نگاہ رکھ کہ پاگل سرِ دار تک تو پہنچے جو گلاب کے کٹوروں میں شراب ناب بھر دے نسیم آه ، پھولوں کے نکھار تک تو پہنچے کچھ عجب نہیں کہ کانٹوں کو بھی پھول پھل عطا ہوں میری چاہ کی حلاوت رگِ خار تک تو پہنچے محبتوں کا لشکر جو کرے گا فتح خیبر ڈرا تیرے بغض و نفرت کے حصار تک تو پہنچے 71