کلامِ طاہر — Page 30
حبس کیسا ہے میرے وطن میں جہاں ، پا بہ زنجیر ہیں ساری آزادیاں ہے فقط ایک رستہ جو آزاد ہے ، یورشِ سیل اشک رواں کے لئے ایسے طائر بھی ہیں جو کہ خُود اپنے ہی آشیانے کے بینکوں میں محصور ہیں اُن کی بگڑی بنا میرے مُشکل گشا ، چارہ کر کچھ غم بیکساں کے لئے بن کے تسکین خود اُن کے پہلو میں آ ، لاڈ کر ، دے اُنھیں لوریاں ، دل بڑھا بکہ بلا ، یا بتا کتنے دن اور ہیں صبر کے امتحاں کے لئے ؟ دور کر 30 (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۸۷ء)