کلامِ طاہر — Page 15
مرد حق کی دُعا دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفتِ ظلمت و کور ٹل جائے گی آو مومن سے ٹکرا کے طوفان کا ، رُخ پلٹ جائے گا ، رُت بدل جائے گی دعائیں کرو یہ دُعا ہی تو تھی ، جس نے توڑا تھا سر کبر نمرود کا ہے ازل سے یہ تقدیر نمرودیت ، آپ ہی آگ میں اپنی جل جائے گی یہ دُعا ہی کا تھا معجزہ کہ عصا ، ساحروں کے مقابل بنا اثر دھا آج بھی دیکھنا مُردِ حق کی دُعا ، سحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی خوں شہیدانِ اُمت کا اے کم نظر ، رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائے گا ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے ، پھول پھل لائے گی ، پھول پھل جائے گی ہے تیرے پاس کیا گالیوں کے ہوا ، ساتھ میرے ہے تائید رب الوریٰ نکل چلی تھی جو لیکھو یہ تیل دعا ، آج بھی ، اذان ہوگا تو چل جائے گی 15