کلامِ طاہر — Page 183
نظم نمبر ۱۴ تو میرے دل کی شش جہات بنے۔اس نظم میں تبدیلیاں اور ان کی حکمتیں ملاحظہ ہوں۔پیارے آقا فرماتے ہیں: وو تیرے کی سبک سبک باتیں تحریر ول کے بھاری معاملات بنے پر نظر ثانی کی آپ نے خواہش کی ہے۔یہ مضمون در اصل حدیث كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللَّسَانِ ثَقِيْلَتَانِ فِی الْمِيزَانِ سے اخذ کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تیرے منہ کی ہلکی ہلکی باتیں ہمارے دل کی بڑی وزنی باتیں بن جاتی ہیں۔آپ کی بات درست ہے کہ بنے کی ضمیر باتیں کی طرف جاتی ہے جو مونث ہے لہذا بنے نہیں بلکہ بہنیں چاہئے تھا۔اس مصرع کو بدل کر میں نے یوں کر دیا ہے۔تیرے هند کے سبک سہانے بول دل کے بھاری معاملات بنے اگر سہانے کی بجائے آپ ریلے پسند کریں تو اسے سبک رسیلے بول کر دیا جائے لیکن سبک سہانے زبان پر زیادہ ہلکا ہلکا لگتا ہے۔“ کتنے کھنڈر محل بنائے گئے ( مكتوب ۱۰۔۹۳-۲۲ صفحه ۳) کتنے محلوں کے کھنڈرات بنے اکثر و بیشتر تو خاکسار کے بچگانہ بلکہ بیوقوفانہ مشوروں پر تبصروں میں معرفت کے سکتے حاصل 29