کلامِ طاہر — Page 9
وہ جس کی رحمت کے سائے یکساں ہر عالم پر چھائے وہ جس کو اللہ نے خود اپنی رحمت کی ردا دی ، آیا صدیوں کے مُردوں کا گی ، صَلَّ عَلَيهِ كَيفَ يُحْـي موت کے چنگل انسان کو دلوانے آزادی آیا جس کی دعا ہر زخم کا مرہم صلی الله علیہ شیریں بول ، انفاس مطهر ، نیک خصائل ، پاک شمائل حامل فرقاں ، عالم و عامل ، علم و عمل دونوں میں کامل جو اُس کی سرکار میں پہنچا ، اُس کی یوں پکٹا دی کایا کبھی بھی خام نہیں تھا ، ماں نے جنا تھا گویا کامل اُس کے فیضِ نگاہ سے وحشی ، بن گئے حلم سکھانے والے مُعطى بن گئے شہرہ عالم ، اُس عالی دربار کے سائل نبیوں کا سرتاج ، ابنائے آدم کا معراج محمد ایک ہی جست میں طے کر ڈالے ، وصل خدا کے ہفت مراحل صلی الله تاریخی کا بنده