کلامِ طاہر — Page 8
ختم ہوئے جب گل نبیوں کے دور نبوت کے افسانے بند ہوئے عرفان کے چشمے ، فیض کے ٹوٹ گئے پیمانے تب آئے وہ ساقی کوثر ، مست مئے عرفان ، پیمبر مُغانِ بادۂ اطہر ، کے نوشوں کی عید بنانے گھر آئیں گھنگھور گھٹائیں ، جھوم اُٹھیں مخمور ہوائیں جھک گیا ابر رحمت باری ، آب حیات کو برسانے کی سیراب بلندی پستی ، زندہ ہوگئی بستی بستی بادہ گشوں پر چھا گئی مستی ، اک اک ظرف بھرا برکھا نے برسات کرم کی صلی الله چارہ گروں کے غم کا چارہ ، دُکھیوں کا امدادی آیا * ☆ راہنما بے راہرووں کا راہبروں کا ہادی آیا $ عارف کو عرفان سکھانے ، متقیوں کو راہ دکھانے جس کے گیت زبور نے گائے ، وہ سردار مُنادی آیا انہیں الف کی مد کے ساتھ راہ نما اور ر آہ بروں پڑھنا ہے۔8