کلامِ طاہر — Page 177
اسی طرح اگر شدید بد بو کا ذکر کرنا ہوتا تو اس کو ہم اس طرح بیان کیا کرتے تھے کہ فلاں شخص یا جگہ سے تو بد بو کے بھبا کے اٹھ رہے ہیں۔پس ایسی Slangs مختلف علاقوں میں رائج ہو جاتی ہیں جو ڈکشنریوں میں راہ پانے کے لئے لمبا عرصہ لیتی ہیں۔اس لئے میں آپ کی بات مانتا ہوں۔یہ لفظ ابھی تک عرف عام کی سند نہیں پاسکا لیکن ممکن ہے ہمارے گھر کی حد تک محدود رہا ہو۔پس اس مصرع کو اب اس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔سینے میں مرے ذکر کی اک دھونی رما کے بیٹھا رہا وہ ذکر کی اک دھونی رما کے اک ذکر کی دھونی مرے سینے میں رہا کے غالباً یہ آخری بہتر ہے۔مگر تینوں میں سے جو آپ پسند کر لیں۔اس معاملہ میں آپ کی پسند پر اعتماد کرتا ہوں۔اگر تینوں ہی دل کو نہ لگیں تو مجھے ایک اور موقع دیں۔(مکتوب (مکتوب ۵/ دسمبر " کیا مون تھی جب دل نے جسے نام خدا کے" اس نظم کے ایک شعر سے میں ان سے جدا ہوں مجھے چین آئے تو کیوں آئے دل منتظر اس دن کا کہ ناچے انہیں پاکے اس کے پہلے مصرع پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔پہلے تو ایسی جسارتوں پر بہت نادم ہوتی تھی۔مگر اب اس کے نتیجے میں خاکسار کو سمجھانے کے لئے جو شعر میں زبان و بیان کے متعلق علم کے دریا بہائے ہیں مجھے نازاں کر رہے ہیں۔جو بھی پڑھے گا اس کا عالم مجھ سے مختلف نہیں ہو گا۔ایسا لگتا ہے ساری عمر صرف ادب کا مطالعہ فرمایا ہے۔تحریر ملاحظہ ہو: میں ان سے جدا ہوں مجھے چین آئے تو کیوں آئے 23