کلامِ طاہر — Page 176
نظم نمبر ۸ حضور ایدہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: دو غم فرقت میں کبھی انتشار لانے والے اس میں اصلاح یہ تجویز ہوئی ہے۔غم فرقت میں کبھی خوب رلانے والے۔لفظ خوب بہت خوب ہے۔مگر لفظ اتنا میں جو اپنائیت اور شکوہ پایا جاتا ہے وہ خوب میں ہرگز نہیں۔غالبا یہ اصلاح اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ اتنا کے بعد اس کا جواب آنا چاہیئے۔حالانکہ یہ ضروری نہیں ہوا کرتا۔بعض دفعہ بغیر جواب کے ہی شرطیہ حصہ پر کلام ختم ہو جاتا ہے اور قرآن کریم میں اس کی بہت ہی پیاری مثالیں موجود ہیں۔ایک کہنے والا یہ بھی کہ دیتا ہے کہ آپ نے مجھے اتنا لایا ہے۔ضروری نہیں کہ بعد میں وہ یہ بھی کہے کہ آنسو پونچھ پونچھ کر میری آنکھیں سرخ ہو گئیں۔اس کے مقابل پر آپ نے مجھے خوب رلا یہ ہے میں لگتا ہے کہ بات ختم ہو گئی اور اپنی ذات میں یہ مضمون و ہیں مکمل ہو گیا۔لیکن لفظ اتنا ایک تشنگی باقی چھوڑ دیتا ہے۔وہ خواہ شکوے کی ہو یا کسی اور چیز کی۔پھر یہ تشنگی مضمون کو اور بھی رفعت عطا کرتی ہے۔اس لئے میرے نزدیک یہاں بھی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔“ (مکتوب ۱۔۹۳۔۱۲ صفحه ۱۷) نظم نمبر 1 اک ذکر کی دھونی مرے سینے میں رما کے پہلے اس مصرع میں لفظ بھبا کے آتا تھا۔جس پر نظر ثانی کی درخواست پر حضور انور نے تحریر فرمایا: لفظ بھیا کے سے متعلق آپ کی بات درست ہے کیونکہ بھیک سے بھیا کا کسی ڈکشنری میں نہیں ملا۔یہ دراصل ہماری بچپن کی Slang تھی۔خوشبو کے لئے ہمارے ذہن میں قادیان میں جو تصور پیدا ہوتا تھا وہ گویا اس طرح تھا کہ چھوٹا سا خوشبو کا جھونکا ہو تو اسے بھی کا' کہتے مگر خوشبو کا ایسا بھب کا کہ گویا اس طرح تھا کہ چھوٹا سا خوشبو کا جھونکا ہو تو اسے اس کو ہم بچپن کی Slang میں 'بھیا کا' کہا کرتے تھے۔22