کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 265

کلامِ طاہر — Page 175

آئیں۔آپ نے دو مضامین کو دو مصرعوں میں Repeat کیا ہے یعنی رُک جائے اور ٹھہر جائے۔جبکہ میں نے پہلے مصرع میں اڑتے ہوئے لمحات پرندوں کی طرح اترنے کا مضمون باندھا ہے۔پرواز میں رک کر دھڑام سے گرنے کی بات نہیں کی۔میرے تصور پر میرا زیادہ حق ہے۔براہ کرم اس کے پر نہ باندھیں۔اس بیچارے کو تسلی سے اڑنے دیں“۔نظم نمبرے (مكتوب د ارمنی ١٩٩٣ء صفحه ۲) ” برق تپاں ہے خندہ کہ خرمن اداس ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ نظم پہلی اشاعت سے نقل کی ہے۔میں نے تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ان کے یہ نظم بھجوانے کے بعد یہ ہدایت کی تھی کہ برق تپاں ہے خنده۔۔۔۔۔۔مصرع کی فوری اصلاح بھجوادیں اور غالباوہ الفضل میں چھپ بھی گئی ہوگی۔لیکن اس کے باوجود آپ کو سہو کتابت والی نظم ہی مل سکی بہر حال اس کی دوصورتیں میرے سامنے آتی ہیں۔(۱) برق ، تپاں ہے خندہ زن۔خرمن اداس ہے مگر اس میں یہ سقم ہے کہ وزن کی تال کے لحاظ سے خندہ زن تک کے مضمون کو پہلے نصف مصرع میں ہی سما جانا چاہئے تھا۔کیونکہ اس نظم کا ہر مصرع دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔گویا ” برق تپاں ہے خندہ پر ایک ضرب ختم ہوتی ہے اور " کہ خرمن اداس ہے‘ پر دوسری۔مگر خندہ زن کر دیا جائے تو زن کا قدم اپنے نصف مصرع کی حدود میں رہنے کی بجائے دوسرے نامحرم نصف پر جاپڑتا ہے۔اسی خیال سے میں نے اسے یوں کر دیا تھا۔برق تپاں نہال۔کہ خرمن اداس ہے غالباً یہی بہتر رہے گا۔خنداں اس لئے جائز نہیں کہ یہاں خندہ صرف زبر کا متحمل ہے الف کا متحمل نہیں۔21 (مکتوب ۹۳ - ۱- ۱۶ صفحه ۱۸)