کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 265

کلامِ طاہر — Page 172

مجھے ڈر تھا کہ آپ دونوں کا معراج کو کئی میں بدل دیں گے کیونکہ مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب نے اپنے کلام میں معراج کو کئی یعنی تانیشی نسبت سے باندھا ہے اور اُردو کتب لغات بھی اسے تانیث میں ہی پیش کرتی ہیں۔مگر ہم نے قادیان میں ہمیشہ اس کو مذکر ہی سنا اور ذہنی طور پر معراج کو تانیث کے ساتھ استعمال کرنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔اس لئے میں نے عمد ایا یوں سمجھ لیں کہ ضد کر کے اس غلطی پر اصرار کیا ہے۔نبیوں کا سرتاج کہنے کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ ابنائے آدم کی معراج تو گھٹیاسی ترکیب نظر آتی ہے جو معراج کی شان کے خلاف ہے۔پس مجھے تو آنحضرت ہمیشہ ہی ابنائے آدم کا معراج دکھائی دیتے ہیں نہ کہ ابنائے آدم کی معراج۔پس بعض ایسے مقامات بھی ہوتے ہیں کہ جہاں شاعر اپنا حق سمجھتا ہے کہ چاہے دنیا اس کے کسی استعمال کو غلط قرار دے وہ اپنی مرضی سے عمدا کسی خاص مقصد کے پیش نظر اپنی غلطی پر مصر ہوں“۔صلى الله (مکتوب ۱۲ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۱۷۔۱۶ اس نظم میں بھی آپ نے نظر ثانی کے دوران کچھ تبدیلیاں فرمائیں اور ہر جگہ بات کو خوب کھول کر بیان فرمایا مثلاً۔آپ نے ایک مصرع 'مٹ گئے مہر و ماہ و انجم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیل فرمایا۔اور مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ” میں نے اس مصرع کو یوں کر دیا ہے۔مہر و ماہ نے توڑ دیا دم - صلی اللہ علیہ وسلم اور بھاگنے کے ساتھ دم کا ٹوٹنا ایک اور لطیف مناسبت بھی رکھتا ہے۔کسی پر شوکت جلوہ کے مقابل دم تو ڑ دینا اور دوڑتے ہوئے دم تو ڑنا ہم آھنگ ہیں۔(مکتوب ۹۳-۱-۱۲ صفحه ۱۳) اب اس شعر کو پڑھ کر زیادہ لطف آئے گا۔آپ کے جلوۂ حسن کے آگے۔شرم سے نوروں والے بھاگے صلی اللہ علیہ وسلم ماہ نے توڑ دیا دم و 18