کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 265

کلامِ طاہر — Page 165

تاریکی یہ تاریکی اندھیروں پر اندھیرے په حضور انور نے تحریر فرمایا: آپ کا خط ملا۔اندھیروں پر اندھیرے کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ اسے ان دھیرا پڑھنا پڑتا ہے۔اس سے میں آپ کا جو مطلب سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ نون غنہ غائب سا پڑھا جائے جو وزن میں اضافہ نہ کر سکے۔آپ کے نزدیک اگر نون غنہ پڑھا جائے تو سویروں پر سویرے کی طرز اور وزن پر اندھیروں پر اندھیرے پڑھا جائے گا۔ورنہ ان اور دھیرا دو حصے پڑھنے پڑیں گے۔آپ کی دلیل بڑی واضح ہے اور خلاصہ اس کا یہی نکلتا ہے کہ نون غنہ اس طرح ادا ہو کہ گویا زائد لفظ موجود ہی نہیں۔اس طرح ادھیرے اور اندھیرے کا ایک ہی وزن ہوگا۔اسی اصول کو مندرجہ ذیل مثالوں پر بھی چسپاں کر کے دکھا ئیں۔انگاروں پر انگارے اس میں آپ اُن گارہ پڑھیں گی یا نون غنہ کے ساتھ ان گارہ کر کے پڑھیں گی۔اور اگر نون غنہ پڑھیں گی تو کیا نون کا لعدم سمجھا جائے گا اور اگارے اور انگارے کو ایک ہی وزن پر پڑھا جائے گا ؟ صاف ظاہر ہے کہ جب نون غنہ آئے تو بعض دفعہ بہت خفیف پڑھا جاتا ہے۔اور بعض دفعہ وہ بعد والے حرف میں مدغم ہو کر اس میں ایک قسم کی تشدید ( شد ) پیدا کر دیتا ہے۔پس باوجود اس کے کہ انگارے کو ان گارے نہیں پڑھتے۔پھر بھی نون کے گاف میں ادغام کی وجہ سے گاف میں ایک قسم کی تشدید آجاتی ہے۔لیکن واضح تشدید نہیں ہوتی۔پس اس کو اپنے ذہن میں دہرائیں تو میری بات سمجھ میں آجائے گی کہ انگارے اور اگارے دونوں کا ایک وزن نہیں جبکہ آپ کے بتائے ہوئے طریق سے دونوں کا ایک ہی وزن بنتا ہے جو سویرے کے وزن پر ہے۔اسی طرح انگیخت لفظ ہے پھر انبار ہے انجام ہے نیز انگشت نہیں پڑھا جاتا۔اور نہ ہی ان گشت پڑھا جاتا ہے انگشت پڑھا جاتا ہے۔میں آپ کو مصرع بتا تا ہوں : انگشت نمائی سے کچھ بات نہیں بنتی اس کو چاہئے ان گشت پڑھیں یا انگشت۔وزن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اسی طرح دندان ہے اس کو 11