کلامِ طاہر — Page 128
ہمیں بٹھلا کے بڑی تیزی سے پھر جاتا تھا اپنے بچوں کو لئے ساتھ وہ سوئے بازار جلد بازار سے لے آتا تھا تازہ مچھلی گرم بھاپ اٹھتی تھی مچھلی سے نہایت مزیدار اب اسے ڈھونڈنے جائے تو کہاں اردو کلاس اسے اب دیکھے گی دل ہی میں نہاں اردو کلاس صبر جس کی خاطر وہ ہمیں کرتا تھا پیار اے وائے وہ بھی غمگین ہے اُس کے لئے بے حد، ہائے کی کرتا تلقین وہ اوروں کو مگر ہے کاش اُس کو بھی تو اس غم سے قرار آجائے دفن ہو جائے گا کل ساجدہ کی قبر کے ساتھ اے خدا قرب دونوں کو بہت بہلائے فاتحہ کے لئے ہم جائیں تو ہم نہ ہو کہیں شکوہ کریں وہ قبریں کہ اب کیوں آئے کبھی ہم سے ملو گے بھی تو بس خوابوں میں کنول اب نہ کھلیں گے کہیں تالابوں میں 128