کلامِ طاہر — Page 127
یاد رکھے گی وہ اک پھول سدا اردو کلاس دل سے اٹھلاتی ہوئی اٹھے گی اُس کی بُو باس وہ سمندر کے کنارے ہمیں لے جاتا تھا دیر تک وہ لب ساحل ہمیں ٹہلاتا تھا راگ موجوں کا بڑوں چھوٹوں کو بہلاتا تھا ب خیال آتا ہے وہ اس کے ہی گن گاتا تھا کبھی ہم اُس کو لطیفوں سے ہنساتے تھے بہت کبھی گاتے تھے تو وہ پیار سے سمجھاتا تھا آؤ اب بنچوں ساگر کے کنارے بیٹھیں تھک چکے ہو گے تمہیں کل بھی تو جگراتا تھا تمہیں مچھلی کھلاؤں گا تروتازہ چلو میں ابھی تک کھلا فش فش شاپ کا دروازه چلو ہے اس کی مہمان نوازی ہمیں یاد آئے گی بے غرض اس کی محبت ہمیں تڑپائے گی وہ کئے رکھتا تھا پہلے سے ہی کئی کھانوں کی لگا رکھتا تھا میزوں تیار قطار 127