کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 265

کلامِ طاہر — Page 113

آمیری موجوں سے لپٹ جا حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کے صاحبزادے ناصر ظفر کو خدا تعالیٰ نے بڑی سریلی اور دل میں اتر جانے والی آواز سے نوازا ہے۔کالج کے زمانہ میں وہ ہمیں ایک ہندی گانا سنایا کرتے تھے جس میں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر تھا اور یہ مثال بھی دی گئی تھی کہ پھول سے رنگت باغی ہو کر تتلی بن اڑ جائے باس کلی کا سینہ چیرے اور دنیا پر چھائے اسی طرح بادلوں کے پہاڑوں کی طرف اُڑ جانے کا ذکر تھا۔اس پر میں نے صرف سمندر سے بادلوں کے اٹھنے، پہاڑوں پر برسنے اور پھر واپس سمندر میں آملنے کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کھاری پانی سے شفاف بخارات اٹھاتا ہے اور کل عالم پر محیط ایک نظام کے تابع نہیں اونچے پہاڑوں پر برساتا اور پھر واپس سمندر میں لے آتا ہے۔اس نظم میں ملی جلی ہندی اور اردو زبان میں اظہار مطلب کی کوشش کی گئی ہے۔رُوٹھ کے پانی ساگر سے جب بادل بن اُڑ جائے ساگر پاگل سا ہوکر ، سر ساحل سے ٹکرائے 113