کلامِ طاہر — Page 100
میری جھولی میں کچھ نہیں مولا پیٹ خالی ہے ہاتھ خالی ہے زندگی کا سفر نبھانے کو میں اکیلا ہوں۔ساتھ خالی ہے دل تنہا سے صدا اٹھی بے ٹھکانہ ہوں گھر نہیں اپنا سر پہ چھت ہے، نہ بام و در اپنا ہے گاؤں کی چمنیوں سے اٹھتا گو دھواں، وہ مگر نہیں اپنا مصر جانے کو جی مچلتا ہے دل سے یہ شعلہ سا نوا اٹھی اکیلا ہوں خوف کھاؤں گا پر دست و بازو کوئی عطا کردے کوٹ کر تب وطن کو جاؤں گا 100 دل سے یہ مضطرب دعا اٹھی