کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 265

کلامِ طاہر — Page 1

الله ظہورِ خیر الانبياء علي اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر مشکل ظلمات پہ وار آئی تاریکی په تاریکی ، گمراہی پر گمراہی ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی طُوفانِ مفاسد میں غرق ہو گئے بحر و بر ایرانی و فارانی - رومی و بخارائی بن بیٹھے خدا بندے۔دیکھا نہ مقام اُس کا طاغوت کے چیلوں نے ہتھیا لیا نام اُس کا تب عرش معلی سے اک نور کا تخت اُترا اک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی اک ساعت نورانی ، خورشید سے روشن تر پہلو میں لئے جلوے بے حد وشمار آئی کافور ہوا باطل ، سب ظلم ہوئے زائل اُس شمس نے دیکھلائی جب شانِ خود آرائی ابلیس ہوا غارت ، چوپٹ ہوا کام اُس کا توحید کی یورش نے در چھوڑا نہ بام اُس کا