کلامِ طاہر — Page 85
جاء المسيح جاء المسيح ( کچھ اہل وطن سے ) بہار آئی ہے ، دل وقف یار کر دیکھو خرد کو نذر جنونِ بہار کر دیکھو غضب کیا ہے جو کانٹوں سے پیار کر دیکھا اب آؤ پھولوں کو بھی ہمکنار کر دیکھو جو کر سکے تھے کیا ، غیر ہمیں بنا نہ سکے ہم اب بھی اپنے ہیں ، اپنا شمار کر دیکھو بس اب نہ دُور رکھو اپنے دل سے اہل وطن ہے تم سے پیار ہمیں ، اعتبار کر دیکھو ہمیں کبھی تو تم اپنی نگاہ سے دیکھو تعصبات کی عینک اتار کر دیکھو لگا رکھی ہیں جو چہروں پہ مولوی آنکھیں نظر کی یہ مچھی ان آنکھوں سے پار کر دیکھو نحوستوں کا قلندر ہے پیر تسمہ پا کسی دن اس کو گلے سے اُتار کر دیکھو نقاب اوڑھ رکھا ہے جو مولویت کا اُتار پھینکو اسے تار تار کر دیکھو تمہارا چہرہ بُرا تو نہیں ، نہا دھو کر کبھی تو حُسنِ شرافت نکھار کر دیکھو 85 }