کلامِ طاہر — Page 82
ہے یا ہے کوئی مہمان سرائے غم آنکھ دل ہے میری کہ اشکوں کی ہے اک را بگذار و خون ہے سینہ کہ جواں مرگ اُمنگوں کا مزار اک زیارت کہ صد قافلہ ہائے غم یا تیرے دھیان کی جوگن خون ہمہ رنج آزار خود چلی آئی پہلو میں بجائے غم و حزن ہے رات بھر چھیڑے گی احساس کے دُکھتے ہوئے تار ایک اک تار سے اُٹھے گی نوائے غم و مخزن ہے جیسے کسی راہب کا چراغ دل جلے جاتا ہے ٹمٹماتا ہو کہیں دور بیابانوں میں قافلے درد کے پا جاتے ہیں منزل کا سُراغ اک کرزتی ہوئی کو دیکھ کے ویرانوں میں 82 الله